17 اپریل 2013 - 19:30

علامہ سید ساجدعلی نقوی نے پاک ایران سرحدی علاقوں اور ملک کے دیگر مختلف شہروں میں خوفناک زلزلے کے باعث ہونے والے جانی و مالی نقصان پر شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کے ساتھ دلی افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے ۔

ابنا: ایک اخباری بیان میں  علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ اگرچہ آفات ارضی و سماوی نظام قدرت اور نظام فطرت کے تحت رونما ہوتے ہیں ان کے مادی اسباب ہیں جنہیں سائنس اور دیگر عصری علوم اپنی تحقیقات میں واضح کرتے آئے ہیں البتہ زلزلے اور اس قسم کی دیگر آفات خدا تعالی کی نشانیاں ہیں اور اس کے وجود اور عظمت کی مظہر ہیں اس لئے اس قسم کی آفات کے بعد خدا تعالی کے حضور سربسجود ہونے کا حکم ہے اور اس نماز کو بھی نماز آیات کہا جاتا ہے۔علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ زلزلے اور اس جیسی دیگر آفات رونما ہونے کا دوسرا اہم پہلو خدا تعالی کی طرف سے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی فراہم کرنا اور انسانی غفلتوں سے انتباہ کرنا ہے۔ ایسے عبرت آموز واقعات سے سبق ملتا ہے کہ ہمیں خدا تعالی کی قدرت اور عظمت سے ہر وقت ڈرتے رہنا چاہیے  اور اس بات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ احکام خداوندی فطرت کے عین مطابق ہیں اور نظام زندگی بھی فطری اصولوں کے مطابق ہے لہذا انسان جب بھی اس فطری اور قدرتی نظام سے سرکشی کرے گا اور احکام الہی سے روگردانی کرے گا تو یہ فطری نظام درہم برہم ہوسکتا ہے اور انسان خدا کی گرفت میں آسکتا ہے۔

.....

/169